ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کشمیر کے 13000 بچے غائب ہیں یاپھر؟ وادی میں نہیں ہے کوئی پابندی، امیت شاہ کا دعویٰ کہاں تک صحیح ہے؟

کشمیر کے 13000 بچے غائب ہیں یاپھر؟ وادی میں نہیں ہے کوئی پابندی، امیت شاہ کا دعویٰ کہاں تک صحیح ہے؟

Mon, 30 Sep 2019 10:54:23    S.O. News Service

بنگلورو،30؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) 56 دن گزر جانے کے بعد بھی کشمیر کے حالات انتہائی خراب ہیں - گذشتہ دنوں کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لے کر واپس آئے سماجی کارکنوں نے دعویٰ کیا تھاکہ کشمیر کے سنگین حالات کا عالم یہ ہے کہ لوگ فوج کے خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں - پلاننگ کمیشن کی سابق رکن اور معروف ماہر تعلیم سعیدہ حمید کی قیادت میں 5 خواتین پر مشتمل ایک وفد نے تین اضلاع کے 51 گاؤں کا دورہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں ایک دردناک اورخوفناک حالات کا انکشاف کیا ہے کہ کشمیر سے دفعہ 370 کے خاتمہ کے اعلان کے بعدسے 13 ہزار سے زائد بچے غائب ہیں - انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کشمیر اور کشمیریوں کے تعلق سے مرکزی حکومت کے تمام دعوے جھوٹے ہیں، کیونکہ میڈیا پر سنسر شپ جیسی صورتحال ہے یعنی کشمیر کے تعلق سے جو خبریں حکومت کے کارندے میڈیا کو فراہم کرتے ہیں وہی خبریں عوام تک آپاتی ہیں - انہوں نے دعویٰ کیا کہ کشمیر کی صحیح صورتحال اور حقیقت پر مبنی خبریں عوام تک نہیں پہنچائی جارہی ہیں - دوسری طرف مرکزی وزیرداخلہ اوربی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ کشمیر میں کسی طرح کی کوئی پابندی نہیں ہے - انہوں نے کہاکہ یہ پابندی صرف آپ کے دماغ میں ہے - اورکہاکہ جموں وکشمیر میں گذشتہ برسوں میں دہشت گردوں نے 41800 لوگوں کی جانیں لی ہیں لیکن کسی نے بھی پورے طورپر انسانیت کا معاملہ نہیں اٹھایا- سوال یہ ہے کہ کیا امیت شاہ ان مرنے والے لوگوں کی تعداد سے اپنی حکومت کا مقابلہ کررہے ہیں نہ وہ جائز تھانہ یہ جائز ہے اسے تو ہر آدمی جانتا ہے -امیت شاہ سچ بول رہے ہیں یا جھوٹ اس کا فیصلہ قارئین خود کرسکتے ہیں -یا پھر سماجی کارکنوں پر مشتمل وفد کے چشم کشا انکشافات کو تسلیم کریں - وفد نے جن 13000 بچوں کے غائب ہونے کا انکشاف کیا ہے وہ بچے یقینی طورپر غائب ہیں یا پھر تقریباً 2 مہینے سے جاری تعطل اور ہڑتال کے دوران ان بچوں کو ماردیا گیا ہے یا پھر ان بچوں کو ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی سزا کے طورپر کہیں چھپا دیا گیا ہے - وفد کی رپورٹ کے عام ہونے کے بعد سرکار ابھی تک خاموش کیوں ہے؟کیوں نہیں حکومت اس رپورٹ کو غلط قرار دیتی ہے - حکومت کی خاموشی بتارہی ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے - کیوں حکومت سیاست دانوں کو کشمیر کی صورتحال جاننے سے روکتی ہے - غلام نبی آزاد نے بھی کشمیر کے دورے کے بعد وہاں کی سنگین صورتحال کا ذکر میڈیا کے سامنے کرتے ہوئے کہاتھاکہ اگر مودی حکومت نے یہی سلسلہ جاری رکھا تو جمہوریت کے تانے بانے منتشر ہوجائیں گے - سماجی کارکنوں پر مشتمل وفد کی رپورٹ چیخ چیخ کر کشمیر کی سنگین صورتحال سنارہی ہے لیکن اسے سن کر ان سنی کردینا کیا مرکزی حکومت کے خوف کی وجہ سے ہے یا ڈر اور خوف کو مصلحت کا چوغہ پہنا دیا گیا ہے - مرکزی حکومت کو ریاست کے استحکام اور اس کی ترقی کے لئے ہر طرح کے فیصلے لینے کا اختیار ہے لیکن ایک جمہوری ملک میں اس فیصلہ سے ہونے والی پریشانیوں پر آواز اٹھانا بھی جمہوریت کے استحکام کیلئے ضروری ہے -حکومت کے ہر فیصلہ کو من وعن قبول کرلینا کسی بھی جمہوری ملک کی روایت نہیں رہی ہے -مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت اس روایت کو ختم کرکے اپنے اڑیل رویہ پر قائم رہتی ہے تو یہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک کیلئے انتہائی خطرناک ہے - سوال یہ ہے کہ حکومت کشمیر کے فیصلہ پر نظر ثانی کیوں نہیں کرتی- 56 دنوں سے کثیر تعداد میں فوج کی تعیناتی نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے جس کی بحث عالمی سطح پر بھی ہونے لگی ہے - پاکستانی حکومت نے ہندوستان کو بدنام کرنے کے لئے عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلہ کو اٹھایا حالانکہ ہندوستان نے عالمی سطح پر پاکستان کو منہ توڑ جواب دیا- کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور کشمیر پر فیصلہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے کے دعوے کے باوجود پاکستان اپنی اس سازش میں کامیاب ہوگیا جس میں اس نے دعویٰ کیا تھاکہ وہ عالمی سطح پر ہندوستان کو گھسیٹے گا- سوال یہ ہے کہ حکومت نے ایسا قدم کیوں نہیں اٹھایا جس سے پاکستان کی بولتی بند ہوجاتی -


Share: